156

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا دسواں دن۔۔۔

ہم میں سے بہت سے مرد حضرات یہ سوچتے ہیں کہ گھر کے کام کاج کرنے سے ان کی عزت میں کمی آ جائے گی اور کچھ حضرات یہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ گھر کی عورتوں کے کام میں ہاتھ بٹا دیں تو ان کی حیثیت و رتبہ میں کمی آ جائے گی۔ ایسا رویہ اس روئے زمین پر چلنے والے انسانوں کو زیب نہیں دیتا کہ جس روئے زمین پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ہم سب کے لےو ایک درخشاں مثال موجود ہو۔
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آجکل کے دور میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اس اہم سنت یعنی اپنے اپنے گھروں میں خواتین کی مدد کرنے/ہاتھ بٹانے کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
حضرت عائشہ رضی تعالی عنه سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں معمولات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے بتایا کہ
“اپنے سر سے جوئی نکالتے ، اپنی بکری کا دودھ دوہتے ، اپنے کپڑے سی لیتے ، اپنی خدمت خود کرلیتے ، اپنے جوتے سی لیتے اور وہ تمام کام کرتے جو مرد اپنے گھر میں کرتے ہیں، وہ اپنے گھر والوں کی خدمت میں لگے ہوتے کہ جب نماز کا وقت ہوتا تھاو چھوڑ کر چلے جاتے۔” (ترمذی: باب مما فی صفة اوانی الحوض: حدیث: ۲۴۸۹)

تو جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جو پوری دنیا بلکہ پوری کائنات میں سب سے زیادہ محترم اور اہم شخصیت ہوتے ہوئے اس سب کاموں کو نسوانیت نہیں گردانتے تو پھر ہم سب کا اپنے اپنے بارئے میں کیا خیال ہے؟ کوئی تعجب نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ
خِیَارُکُمْ خِیَارْکُمْ لِنِسَائِھِمْ وَاَنَا خِیَارُکُمْ لِنِّسَائِیْ۔
“تم میں بہترین وہ لوگ ہیں جوا پنی خواتین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور میں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاؤ کرنے ولا ہوں۔” ( ترمذی ماجاء فی المرأۃ علیٰ زوجھا حدیث نمبر ۱۱۷۲)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Re-inspired: Day Ten…

Many men think that housework is beneath them, and some of them think that it will undermine their status and position if they help the womenfolk at home. This was not the attitude of best man to ever walk on the face of this earth – when we have the greats example in the shape of Our beloved Prophet Muhammad (sal allah ho alahy wasalam).
Sadly said, now a days helping our mothers/sisters/wives with in their household chores is a much neglected Sunnah. When Aisha (razi allah tala anhu), the beloved wife of the Prophet (sal allah ho alahy wasalam) was asked “What did the Prophet (sal allah ho alahy wasalam) do in his house?” She replied, “He used to keep himself busy serving his family and when it was the time for prayer he would go for it.” (Bukhari)
If the Prophet (sal allah ho alahy wasalam) being the most the important man in the world did not find these things too feminine for him to do, then what about us? It is no wonder that he said, “The best of you is the one who is best to his wife, and I am the best of you to my wives.” (Tirmidhi)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.