125

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا پندرواں دن۔۔۔

اگلی بار جب ہم نماز ادا کرنے جا رہے ہوں تو اپنی نماز کے معیار پر بھرپور توجہ دیں اور اپنے اعمال و طریقہ کار کی درستگی پر وقت صرف کریں۔ نہ کہ سپیڈی گونزلز کی بنے کہ نماز ایسے ادا کر رہے ہوں جیسے پولیس سے بھاگے ہوئے ہوں اور اپنے دو نوافل گرفتاری سے پہلے ادا کر رہے ہوں۔ پورے دھیان/یکسوئی اور مکمل درستگی کے ساتھ ادا کی گیں دو رکعتیں، ہزار درجہ بہتر ہیں بےدھیانی و تیزی سے ادا کی گیں چار رکعات سے۔
محترم اسلامی بھائیوں و بہنوں، تعداد/شمار کچھ بھی نہیں ہوتے۔ اللہ سبحانی وتعالی کو پوری ایمانداری سے اپنا وقت دیں، آخر کار اللہ سبحانی وتعالی ہی تو ہمارے وقت کے حقیتی مالک ہیں۔
یاد رکھیں، ہم بھلے جس جانب یا چیز کے پیچھے جلدی میں ہیں اُن سب کا خالق و مختار اللہ سبحانی وتعالی ہی ہے۔ باقی ہر کوئی/سب کچھ انتظار کر لے گا۔ بس نماز ایسے ادا کریں کہ یہ ہماری زندگی کی آخری نماز ہو۔ اپنا دل اس کی ادائیگی میں لگا دیں اور پھر محسوس کجیئے ایمان کی مٹھاس۔
“بےشک ایمان والے رستگار ہوگئے جو نماز میں عجزو نیاز کرتے ہیں۔” (القرآن، سورة المؤمنون-1 تا 2)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Reinspired: Day Fifteen…

The next time we are going to pray, pay some attention to the quality of our salah and spend a considerate amount of time in perfecting our actions. Don’t be like Mr. Speedy Gonzales who prays as if he’s on the run from the police and he must get these two nawafil in before getting caught.
Praying two rakahs with complete attention and perfect actions is better than praying four super quick ones.
Respectable Brothers and sisters, numbers don’t mean anything. Give ALLAH subhana wa ta’ala our time, after all ALLAH subhana wa ta’ala is the Owner of time.
Remember, whatever it is that we are rushing for, ALLAH subhana wa ta’ala owns it. Everything else can wait. Pray every salah as if it is your last. Put your heart into it and taste the sweetness of Imaan.
“Successful indeed are the believers. Those who offer their prayers with all solemnity and full submissiveness.” (Al Quran,
Al-Mu’minun-1 to 2)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.