118

ماہ رمضان، خود تشخیصی و تبدیلی کا گیارواں دن۔۔۔

آئیے ہم سب مل کر عزم کریں کہ اس ماہ رمضان میں ہم سب اپنی منفی/برئی عادات وخصلات کو نئی اچھی اور مثبت عادات و خصلات سے تبدیل کریں گیں اور انشاءاللہ ہم اس عزم سے بناء دستبردار ہوے ثابت قدمی سے تب تک کوشش جاری رکھیں گے جب تک کہ ہماری منفی/برئی عادات وخصلات ہمارئی زندگی سے مکمل طور پر ختم نہ ہو جائیں۔
سیدنا ابو زر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ﺭﺳﻮﻝ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، تو جہاں‌کہیں بھی ہو اللہ تعالی سے ڈر اور برائی کے پیچھے نیکی کر۔ نیکی برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آﺅ۔ ترمذی

چونکہ منفی/برئی عادات وخصلات کے پیچھے شیطانی طاقت بھی کارفرما ہوتی ہے اور وہ ہماری مزاحمت کو بھرپور طریقے سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ تو کیا ہماری مزاحمت کامیاب ہو سکتی ہے؟ اور ہم مکمل طور پر مثبت انداز میں تبدیل ہو کر اِسی مثبت راہ پر گامزن رہ سکتے ہیں؟
مثال کے طور پر کیا ہم نماز کے عادی ہو سکتے ہیں؟
یا تلاوت قرآن کے؟
یا خیرات دینے کے؟
یا حج/عمرہ کرنے کے؟
یا چلو کچھ ایسا اچھا مثبت کام/اقدام/عمل اپنے معاشرہ کے لیے جس کے بارئے میں ہم خود بہت پریقین، پرعزم و پرجوش ہوں؟
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا:
وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَھَبَ اللہُ بِکُمْ وَلَجَآءَ بِقَوْمٍ یُّذْنِبُوْنَ فَیَسْتَغْفِرُوْنَ اللہَ َیَغْفِرُ لَھُمْ (مسلم)
’’مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں لے جائے گا اور ایسی قوم پیدا کرے گا جو گناہ کریں گے۔ پھر اللہ رب العزت سے گناہ کی معافی کی التجا کریں گے و اللہ تعالیٰ انہیں معافی عنایت فرمائیں گے۔‘‘
آئییے ہم سب مل کر اُن تمام منفی/برئی عادات وخصلات قلع قمع کریں اور کم از کم کوئی ایک مثبت/اچھی عادات و خصلت کا اپنے آپ کو عادی بنائیں گے – اس ماہ رمضان سے اپنی زندگی کے اختیتام تک۔
انشاءاللہ
کیا ہم واقعی کریں گے؟

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Re-inspired: Day Eleven…

This Ramadan let’s aim at replacing our negative addictions with new positive ones and work our way to gradually unwind/withdraw from the negative addictions until they disappear from our lives, insha’Allah.
Prophet Muhammad (Peace be upon him), the greatest ‘psychologist’ of humanity, illustrated this principle in these words: “Fear Allah wherever you may be; follow up an evil deed with a good one which will wipe (the former) out, and behave good-naturedly towards people.” (Hadith At-Tirmidhi)
Since addiction is such a powerful force that sometimes is hard to resist, can we harness this propensity to be addicted & get ourselves addicted to positive things?
Can we get addicted to Salah for example? Or to the Quran? Or to giving Charity? or performing Hajj/Umrah? Or even get addicted to doing something positive in the community or to what we passionately believe in?
Prophet Muhammad (peace be upon him) said:”By Him in Whose Hand is my life, if you were not to commit sin, Allah would sweep you out of existence and He would replace (you by) those people who would commit sin and seek forgiveness from Allah, and He would have pardoned them.” (Hadith-Sahih Muslim)
Let’s try to eliminate all those evil addictions and keep at least one positive addiction from this Ramadan till the end of our lives Insha’Allah!
Can we?

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.