515

نامکمل صف۔۔۔

(تحریر پڑھنے سے پہلے ذہن نشین کر لیجئیے کہ میرا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں صرف فرد واحد و مسلم کے طور پر جو محسوس کیا وہ آپ سب سے شئیر کررہا ہوں۔ میری نیت و اخلاص کو ملحوظ خاطر رکھیئے گا۔ شکریہ)

آج خلاف معمول مدرسہ میں نماز تروایح ادا کرنے کی بجائے شہر کی ایک بڑی ہاوسنگ سوسائٹی کی بڑی جامعہ مسجد میں نماز تراویح ادا کرنے کا اتفاق ہوا۔ جماعت کے وقت پہلی صف بھی مکمل نہیں تھی۔ سوچا ابھی دوران نماز مزید نمازی شامل ہو جائیں گے۔ نماز کے بعد سنت و نفعل کی ادائیگی کے بعد نماز تراویح شروع ہوگئی پر تعداد کم و بیش وہی رہی۔ خیربجائے بڑھنےکے آٹھویں رکعت کے بعد تعداد مزید کم ہوتی گئی۔

صد افسوس!

یہ وہی ہاوسنگ سوسائٹی ہے جہاں رمضان المبارک سے پیشتر ماہ میں کچھ شادی کی اور کچھ دیگر تقریبات منعقد ہوئیں۔ جو شام سے لے کر رات کے آخری پہر تک بڑئے جوش خروش سے جاری و ساری رہیں۔ مجال ہے کے دھوم دھڑکا و غل غپاڑہ میں کمی واقع ہوئی ہو۔ ان تقاریب میں شامل کسی سے بھی پوچھ لیتے کہ چلو دین اسلام کیا کہتا اس بارئے میں اس کو تو رکھو ایک طرف، اتنا اہتمام کیوں آخر؟
جواب ملنا تھا کہ، بھئی ایسے موقعے روز روز تھوڑئے آتے ہیں۔ بس اس کو یادگاربنانا چاہیے۔

وائے افسوس!!

اس دنیاوی موقع کے لیے کتنا اہتمام اور یادگار بنانے کے لیے کتنی محنت اور جو حقیقی و دائمی بات ہے اس کی کچھ خبر نہیں، کچھ پرواہ نہیں؟ ؟

جب جانتے بوجھتے کہ اگلے لمحے کا پتہ نہیں لیکن پھر بھی ہم سب کو ماہ رمضان کا مبارک موقع نصیب ہوا ہے تو ہم اس کے لیے کیا اہتمام و محنت کر رہے ہیں؟ ؟ ؟

بقول شاعر،

مسجد تو بنا دی شب بھر میں امان کی حرارت والوں نے،
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا۔ ۔ ۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.