181

پانی کے سنگین بحران پر غیر سنجیدگی کیوں؟

ارتھ پالیسی انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 40 سال کے اندر پانی کی شدید قلت اور انتہائی خوفناک بحران رونما ہونے والا ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے عالمی اداروں کی رپورٹس اور بین الاقوامی اندیشیوں کے مطابق یہ بحران گیس اور بجلی کے بحران سے کہیں بڑھ کر ہو سکتا ہے۔ ”ارسا“ نے حکومت پاکستان کو اس تشویشناک صورتحال پر جو رپورٹ پیش کی اس میں پانی کے مخدوش مستقبل سے آگاہ کیا۔ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے بھی اس تشویشناک صورتحال سے آگاہ کیا لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ان حقائق کے باوجود ہنگامی صورتحال سے نبٹنے کے لئے نہ کوئی موثر حکمت عملی وضع کی گئی اور نہ کوئی موثر قدم اُٹھایا گیا۔

پانی کی کمی کی وجہ سے نہ صرف لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بلکہ زراعت اور معیشت پر بھی برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ پانی کے بحران نے فوری طور پر بڑے آبی ذخائر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ان ذخائر کی تعمیر پر اگر بروقت کام شروع نہ کیا گیا تو 2025ءتک پاکستان سنگین آبی بحران میں مبتلا ہو جائے گا اور ملک کو تقریباً 32، ایکڑ فٹ پانی کی کمی کا سامنا ہو گا ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پانی کے ضیاع کو روکنے اور اس کو ذخیرہ کرنے کے لئے کوئی مربوط پالیسی نہ بنا سکے، پانی کی کمی پورا کرنے کے عمومی طور پر تین طریقے ہیں اس کی دست یابی کو یقینی بنانا، جس کے لئے آبی ذخائر اور کالا باغ ڈیمز جیسے منصوبوں پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس کے ضیاع کو روکنا جو کہ ناممکنات میں سے ہے۔

ہانگ کانگ کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں فلش سسٹم میں سمندر کا پانی استعمال ہوتا ہے اور انسان کے پینے کے لئے میٹھے پانی کا استعمال ہوتا ہے تاکہ میٹھے پانی کے ذخائر انسانی استعمال کے لئے محفوظ رہ سکیں اور تیسرا طریقہ تقسیم آب کے نظام کو بہتر بنانا۔

ہماری بے خبری کا تو یہ عالم ہے کہ ہم ابھی تک یہ بھی نہیں جان پائے کہ دریاﺅں میں آلودہ اور گندا پانی شامل کر کے ہم انسانیت کے ساتھ کتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ اور اس کے کتنے بھیانک نتائج نکلیں گے۔ آلودہ پانی سے لگنے والی بیماریوں سے 8 سیکنڈ میں ایک بچہ مر جاتا ہے۔ اسی فیصد امراض آلودہ پانی کی وجہ سے پھیلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس مسئلہ کا شکار ہیں۔ آلودہ پانی میں خطرناک جرثومے اور وائرس لاکھوں افراد کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں اس وقت پانی کی مجموعی ضرورت 115، ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ دستیاب پانی 106، ملین فٹ ہے۔ پاکستان کو 9 سے دس ملین ایکڑ فٹ پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اگر یہ رفتار اسی طرح بڑھتی رہی اور واضح اور ٹھوس عملی اقدامات نہ کئے گئے تو 2025ءتک یہ کمی 30 ملین فٹ سے اوپر تجاوز کر جائے گی۔

ہمارے ہاں ڈیمز میں پانی کی گرتی ہوئی سطح نے ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کیا ہے اس پر طرہ یہ کہ بھارت مسلسل ہمارے دریاﺅں پر بند باندھنے میں مصروف ہے۔ بھارت بگلیہار ڈیم میں پانی بھرنے میں مصروف ہے جس سے دریائے چناب کے پانی میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم اپنے دریاﺅں پر جا بجا چھوٹے بڑے ڈیمز بنائیں تاکہ بھارتی آبی جارحیت کا مقابلہ کر سکیں اور ایسے عناصر کو گھناﺅنا کھیل کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔ جو ذاتی مفادات کی خاطر ڈیموں کی تعمیر میں رخنہ ڈالتے ہیں۔

ڈیمز کی مخالفت کرنے والوں کو اس حقیقت سے باخبر ہونا چاہئے کہ دنیا بھر میں میٹھے پانی کی قلت سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور پاکستان کی غیرسنجیدگی اور بے اعتدالی کی وجہ سے یہاں پانی کا بحران شدت پکڑتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت چالیس فیصد ہے۔ بھارت نے 230 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے جبکہ پاکستان صرف 30 دن تک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

ہمیں اس حقیقت سے بھی باخبر رہنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم نے بروقت عملی اقدامات کرتے ہوئے چھوٹے یا بڑے ڈیمز بنانے کی ضرورت پر کام نہ کیا تو ہمیں ذہنی طور پر اس بحران کا شکار رہنے کے لئے تیار رہنا چاہئے اور نیا ایتھوپیا یا صومالیہ بننے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ جس قدر تیزی سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اس کا اثر گلیشئرز پر پڑا ہے کہ ہمالیہ، قراقرم اور ہندو کش پر موجود گلیشئرز تیزی سے پگھلنے لگے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت کو کنٹرول کرنا تو پاکستان کے بس میں نہیں لیکن وہ ڈیمز بنا کر پانی کی آمدورفت کو کنٹرول کر سکتا ہے۔

ہم اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ دریاﺅں سے آنے والا پانی زراعت کے لئے استعمال ہوتا ہے اور شہری جھیلوں، ڈیموں اور زیرزمین سے پانی نکال کر استعمال کرتے ہیں۔ پانی کے یہ دونوں ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ بھارت ہمارے دریاﺅں کا پانی کم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ریت، مٹی اور گارے نے بھی ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا۔

اس گھمبیر صورتحال سے نبٹنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدامات اٹھائے۔ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف موثر آواز اٹھائے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز بنائے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے۔ اگر پانی کی کمیابی کو دور کرنے کے لئے بروقت موثر قدم نہ اٹھائے گئے تو ایسا ممکن ہو سکتا ہے کہ 2015ءتک لوگ پانی کے حصول کے لئے قطاروں میں کھڑے نظر آئیں۔ پانی حاصل کرنے کے لئے لڑائی جھگڑے معمول کی بات بن جائیں اور مجموعی طور پر ہماری زراعت اور معیشت پسماندہ تر ہو کر رہ جائے۔ لیکن اس مسئلے کے حل کے لئے جس سنجیدگی کی ضرورت ہے تو اس کا حکمرانوں میں فقدان نظر آتا ہے۔


(تحریر پروفیسر فہمیدہ کوثر)

نوٹ: لکھ دو کا تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو تحریری، صوتی و بصری الفاظ پر مشتمل اپنا پغام اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ای میل کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.