137

پاکستانی معیشت کی تشویشناک صورتحال !

پاکستان میں ہر کوئی سیاست میں الجھا ہوا ہے ، معیشت پر کسی کی بھی توجہ نہیں ہے ۔ عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کی حالیہ ’’ پوسٹ پروگرام مانیٹرنگ رپورٹ ‘‘ میں اس تشویش ناک امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کی معیشت انحطاط کا شکار ہے اور یہ بھی خطرہ ہے کہ پاکستان اپنے قرضے ادا نہیں کر سکے گا کیونکہ پاکستان کے تجارتی اور مالی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بھی مقررہ حد سے زیادہ ہو گیا ہے ۔ زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہو گئے ہیں لیکن رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل قریب میں اقتصادی صورتحال بہتر نظر آتی ہے، 2017ءاور 2018ءمیں معیشت کی شرح نمو 5.6فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں ایک طرف تو پاکستانی معیشت کے انتہائی منفی اشاریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور دوسری طرف معیشت کی بہتری کی امید بھی دلائی گئی ہے ۔ آئی ایم ایف سمیت تمام عالمی مالیاتی ادارے ، جن کے بل بوتے پر عالمی سرمایہ دارانہ نظام چل رہا ہے ، اسی طرح کی رپورٹس ہی تیار کرتے ہیں تاکہ ان اداروں کی جکڑ بندی کا شکار ممالک ان کے جال سے نکل نہ سکیں ۔اس لئے ان عالمی مالیاتی اداروں کو ’’ غربت کے آقا ‘‘ قرار دیا جاتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت اس رپورٹ سے کہیں زیادہ خطرناک صورت حال سے دوچار ہے ۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر بجلی اور گیس کے ٹیرف بڑھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے ۔ روپے کی قدر میں مزید کمی کو رپورٹ میں ایک بہتر اقدام قرار دیا گیا ہے ۔ اگر عام انتخابات سے قبل حکومت بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اور روپے کی قدر میں مزید کمی کرتی ہے تو یہ پاکستان کے عوام کےلئے انتہائی پریشان کن بات ہو گی شرح نمو میں اضافے کا جو امکان ظاہر کیا گیا ہے ، اس کا سبب رپورٹ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں ہونیوالی سرمایہ کاری ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی اپنی معیشت میں کوئی صلاحیت نہیں ہے ۔ اب آتے ہیں اصل حقائق کی طرف ۔ اس وقت پاکستان میں وہ تمام ادارے خسارے میں ہیں ، جنہیں پاکستان کی معیشت کو چلانا تھا ۔ ان اداروں کی حالت کا اندازہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اقتصادی امور مفتاح اسماعیل کی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’ پی آئی اے کا قرضہ جو شخص ادا کر دے گا ، اسے پاکستان اسٹیل ملز مفت دے دی جائیگی ۔ ‘‘ پاکستان اسٹیل ملز پر سوئی سدرن گیس کا بل اتنا زیادہ ہے کہ بل کے بدلے مل دینے کی بات ہو رہی ہے ۔اسی طرح بے شمار ادارے ایسے ہیں ، جنہیں سالانہ اربوں روپے کی سبسڈیز پر زندہ رکھا جا رہا ہے ۔

دوسری طرف پاکستان پر قرضوں کا بوجھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت نے قرضے لینے کے علاوہ کوئی دوسرا کام ہی نہیں کیا ۔ 2013 ء میں پاکستان کے کل اندرونی اور بیرونی قرضے 16338 ارب روپے تھے ۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے دوران 10ہزار ارب سے زیادہ قرضےلئے ہیں اور اب قرضوں کا مجموعی حجم 26500 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ پاکستان کی معیشت اب مکمل طور پر قرضوں پر انحصار کر رہی ہے ۔ قرض کی ادائیگی کیلئے مزید قرض لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔ بیرونی قرضے 100 ارب ڈالرز یعنی 100 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں ، جو 2013 ء میں تقریباً 6 ہزار ارب روپے تھے ۔ 26500ارب روپے کے قرضوں میں 7 ارب ڈالرز یعنی 700 ارب روپے سے زیادہ کا چین کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا قرضہ شامل نہیں ہے ، جو سی پیک کے مختلف منصوبوں کی وجہ سے پاکستان پر واجب الادا ہو گیا ہے ۔ گزشتہ چار سالوں میں پاکستان نے قرضوں پر سود کی مد میں 50 ارب ڈالرز ادا کئے ہیں رواں سال قرضوں اور سود کی ادائیگی کی مد میں 1320ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ اوسطاً ہر سال 12ارب ڈالرز قرضوں اور سود کی مد میں ہمیں ادا کرنے پڑتے ہیں ۔ یہ قرضے پاکستان کی معاشی ترقی کو نگل رہے ہیں ۔ قرضوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اور مالی خسارے میں بھی خوف ناک اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی برآمدات تقریباً 20ارب ڈالرز جبکہ درآمدات 53ارب ڈالرز سے زیادہ ہیں۔ہمارے بجٹ کا خسارہ 2 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہے ۔

یہ ایسے حقائق ہیں ، جن کو سامنے رکھ کر ایک عام آدمی بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ ہم کس قدر خطرناک معاشی بحران سے دوچار ہیں۔ معیشت میں بہتری آئی ایم ایف کو تو نظر آ رہی ہے کیونکہ اسے پاکستان کو اسی ڈگر پر چلانا ہے لیکن برسرزمین کوئی امید افزا صورت حال نہیں ہے ۔ ٹیکسٹائل سمیت ہمارا کوئی بھی صنعتی شعبہ مقابلے کے قابل نہیں رہا کیونکہ یہاں پیداواری لاگت دنیا کے دیگر ملکوں سے بہت زیادہ ہے ۔ تجارت کیلئے بھی یہاں حالات زیادہ سازگار نہیں ہیں کیونکہ پاکستان تجارتی سہولتوں کی انڈیکس میں دنیا میں 145 ویں نمبر پر ہے ۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے 977 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں ۔

یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ توانائی کا شعبہ کیسے اپنے آپ کو چلا پائے گا ۔ پاکستان میں زراعت ، لائیو اسٹاک ، ڈیری فارمنگ اور فشریز پر بھی توجہ نہیں دی گئی ۔ انسانی وسائل کو ترقی دینے کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ قدرتی وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال نہیں کیا گیا ملک کی بڑی آبادی براہ راست ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے اور جو ادارے یا افراد ٹیکس نیٹ میں آتے ہیں ، وہ ٹیکس جمع کرنیوالے لوگوں کیساتھ مل کر بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کرتے ہیں ۔

بہتری کہاں نظر آ رہی ہے ؟ اسکا کوئی واضح جواب آئی ایم ایف کی رپورٹ میں نہیں ہے ۔ صرف ایک ہی امید دلائی جا رہی ہے کہ سی پیک کی وجہ سے پاکستان دنیا کی بڑی معاشی طاقت بن جائے گا یہ فی الحال ایک پرکشش نعرہ ہے ۔ اسکے حقیقی اثرات کیا ہوتے ہیں ، اس پر قومی مباحثے کی ضرورت ہے ۔ عام آدمی کی زندگی پاکستان میں اجیرن ہو گئی ہے ۔ غربت میں خوف ناک اضافہ ہو گیا ہے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم نفیس صدیقی)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.