62

کھلی آنکھوں سے اندھے ھو گئے ھو ؟

شاں تلووں کے ھیں تیری زباں پر
جنھیں تم چاٹ گندے ھو گئے ھو
نکل محکوم سوچوں سے تو باہر
غلامی سوچ بندے ھو گئے ھو
تو ھے مسجود ظالم حاکموں کا
فرنگی راج انڈے ھو گئے ھو
زناور ھی زناور چوڑیوں میں
مریدی نفس جھنڈے ھو گئے ھو
اُٹھو بدلو نظامِ سامراجی
مِہر کفنوں میں ٹھنڈے ھو گئے ھو
میں روتا ھوں تیری اس بے حسی پہ
کہ ڈنڈے کھا کے ڈنڈے ھو گئے ھو
اذانِ مِہر سنتے کیوں نہیں ھو
کہ جمعہ چھوڑ سنڈے ھو گئے ھو
کبھی اے کاش یہ کشکول ٹوٹیں
کہ سودی گھاٹ پھندے ھو گئے ھو
جو مجرم مِہر ھے تو تم بھی اتنے
کھلی آنکھوں سے اندھے ھو گئے ھو

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم حامد کمال الدین)

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.