305

جمعتہ الوداع اور مسلمانوں کا انداز دعا۔ ۔ ۔

صد افسوس!
ہم میں سے بیشتر مسلمانوں کا انداز دعا ایسا ہوتا ھے جیسے ہوٹل پر آرڈر دیا جارہا ہو،
کلو کڑاھی
(بے اولادوں کو اولاد دے)
ایک دہی کردے
(شفاء ِ بیماراں)
ایک کوک کردے
(راہ مسافراں خیر)
روٹیاں گرم
(خلاصئِ قرض داراں)
ایک رائتہ کردے
(اے اللہ مُردوں کو بخش دے)
ایک سلاد
(بچیوں کے نکاح کرادے)
ساتھ میں نان کردے
(سارے مسائل حل کردے)
ذرا غور فرمایں کہ آرڈر دیتے ہوئے تو ہماری پوری توجہ ہوتی ھے کہ کچھ کم زیادہ نہ ہو جائے مگر صد افسوس کہ ہماری دعائیں تو اتنی توجہ سے بھی خالی ھے۔

اللہ تعالی سے مانگنا چاہیے کہ،
اے اللہ تعالی! ہمیں اپنے آپ سے مانگنے کا ڈھنگ عطا فرما دیں۔
جیسا کہ حدیث مبارک کا مفہوم ہے، “اللہ تعالی کسی غافل دل کی دعا قبول نہیں فرماتے۔”

دعا میں عاجزی انکساری ضروری ھے۔ اگر رونا نصیب ہو جائے تو پھر کیا ہی کہنا!

ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوجاتا ہے کہ میری کون سی دعا قبول ہوئی ہے۔ جس دعا میں آہ و زاری نصیب ہو جائے اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ بفضل تعالی میری دعا قبول ہوگئی ھے۔

حدیث مبارک ھے،
“الدعاء مخ العبادہ”
دعا عبادت کا مغز ھے۔

آج ہم میں دعا مانگنے کی بہت کمی ھے۔ ہم نے نماز کے بعد بس چار جملے بول دینے کو دعا سمجھ رکھا ھے۔ کبھی اکیلے میں آدھا گھنٹہ دعا مانگ کر دیکھیں تو پتہ چلے کہ جو مزہ دعا میں ھے دنیا کی کسی چیز میں نہیں ہے۔ جب کہ دعا ایک الگ عبادت ھے۔ دعا سے تو تقدیر بدل جاتی ھے۔ دعا ایسے مانگیں جیسے چھوٹا بچہ اپنی کسی چیز کے لئے رو رو کر ماں کو مناتا ھے۔ اور ہم کیوں بھول جاتے ہیں کے ہمارا اللہ تو ہمیں ستر ماوں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – ، القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – ماخوذ)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.