163

روزہ میں دہی، الائچی، قہوہ کا ٹوٹکا اور باواجی۔۔۔

آپ جیسے بہت سے لوگوں کی طرح مجھے بھی موبائل فون پر بذریعہ ایس ایم ایس اور واٹ اپیپز ایک عجیب سا مسیج اس پورئے ماہ رمضان میں ملتا رہا کہ،
“دہی کھاؤ سحری میں زیادہ تا کہ پیاس نہ لگے اور پھر چھوٹی الائچی کا قہوہ پیو یا ہو سکے تو چند الائچی کے دانے چبا لیا کریں پھر دیکھنا روزہ آرام سے گزرے گا اور پیاس بھی نہیں لگے گی۔”

پڑھ کربہت ہنسی آتی رہی۔ خیر پھر سوچا کہ چلو جب باواجی ملیں گے تو ان سے ذکر کروں گا سو باواجی کو ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔

تھوڑی دیر کی خواری اور آوارہ گردی کے بعد بالاخر باوا جی مل ہی گۓ ہمیشہ کی طرح اپنے عجیب کاموں میں مصروف۔۔۔

آج باوا جی موصوف چونٹیوں کو دیکھ رہے تھے بڑے غور غور سے۔ ۔ ۔

خیر میں نے انکی مصروفیت میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور انکے قریب ہی جاکر بیٹھ گیا اور اس چھوٹے سے کیڑے کو دیکھنے لگا اور باوا جی کی سرگوشیاں بھی سننے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔

باوا جی جیسے ہی کسی چیونٹی کو اپنے بل میں پہنچتےہوۓ دیکھتے تو سبحان اللہ کہتے جب چیونٹی کو لڑکھڑا کر پھر سے سمبھلتا ہوا دیکھتے تو ماشاءاللہ
کہتے، خیر میں بہت جلد اکتاہٹ محسوس کرنے لگا اور باوا جی کو پکار ہی بیٹھا،
” باوا جی کیوں بیچاریوں کو تنگ کر رہے ہو کرنے دو نہ انہیں انکے کام”
باوا جی بولے، “ارے میرا شیر آگیا چل بیٹھ میں آتا ہوں۔”

میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ کر گرد و نواح کا جایزہ لینے لگا کتنی پراسرار سی جگہ پر رہتے ہیں باوا جی، عجیب میٹھے سکون والی جگہ جہاں چڑیا اس طرح دانہ چگ رہی ہوتی ہیں جیسے ہمارے گھروں میں مرغیاں۔۔۔
بنا خوف و خطر!
شاید انہیں یہاں رہنے والے بوڑھے پر بھروسہ ہے کہ یہ اللہ کا بندہ انہیں شکار نہیں کرے گا۔۔۔

خیر باوا جی تھوڑی ہی دیر میں واپس آگۓ اور میرے ساتھ ہی بیٹھ گۓ اور حال احوال پوچھنے لگے۔

میں ٹھہرا سدا کا خود غرض لہٰذا جلد ہی اپنے مطلب پر آگیا اور بولا،
باوا جی ایک ٹوٹکا پتا لگا ہے سحری میں دہی کھا کر چوٹی الائچی کا قہوہ پیو یا کچھ دانے چھوٹی الائچی چبا لو تو پیاس نہیں لگتی۔

باوا جی نے عجیب نظروں سے دیکھا جیسے انہیں لگ رہا ہو میں نے کوئی بہت ہی عجیب اور بے ہودہ بات کہہ دی ہو۔

خیر چند ساعتوں کی خاموشی کے بعد باوا جی کہنے لگے،
” پتر میں اگر تجھے ایسی بوٹی بتاؤں کہ جسے کھانے کے بعد اگر تو دو دن بھی کچھ نہ کھاۓ تو تجھے فرق نہ پڑے گا پر پتر ایسا روزہ رکھ کر تو مطمین ہوگا؟”

پتر جب پیاس ہی نہ لگے تو روزہ کیسا؟

اصل میں ہماری پیاس ہی تو ماری جارہی ہے ہر جگہ سے ہر سازش سے۔۔۔

میرا پتر بات تو تم نے شاید کسی اور ہی مقصد سے کی پر آج ایک سبق لے لو اگر روزے سے اسکی پیاس ہی نکال دو تو مقصد کہاں پورا ہوتا ہے رب کی نعمتوں کی قدر سمجھنے کا؟

بلکل ویسے ہی ہمارے اندر سے مسلمانیت کی پیاس ہی نکالی جارہی ہے تا کہ مسلمانیت کے مطلب کا پتا ہی نہ لگے ارے بیٹا جسے مادیت کی تمنائیں کوٹ کوٹ کر پلائی جایئں گی اسے “احساس” کی پیاس کیسے لگے گی؟

جب خون کی جگہ نشہ دوڑنے لگے اور دماغوں میں سوچ کی جگہ فحاشی پھلنے لگے تو گناہوں سے “روشنی” کی جانب بھاگنے والی پیاس کیسے جاگے گی؟

تو کہتا ہے دہی، قہوہ، چھوٹی الائچی کا استمعال کرو تو روزے میں لگنے والی پیاس مک جاتی ہے۔

میرے بھولے پترا، ذرا اپنے آگے پیچھے دیکھ، اغیار کی سازشیں دیکھ
کہیں میڈیا کے ذریعے ہماری “حب الوطنی” کی پیاس بجھائی جارہی ہے،
کہیں شیعہ اور سنی کا نعرہ لگا کر ہماری مسلم امّہ کی “یکجہتی” کی پیاس بھسم کی جارہی ہے،
کہیں شام اور مصر کی جنگ کو غیروں کی جنگ کہہ کر میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خطبہ حجتہ الوداع میں دئیے گۓ “پیغام” کی پیاس بجھائی جارہی ہے،
کہیں ہمیں اپنے ہی اداروں کے خلاف کر کے ہماری سچی “طاقت” کی پیاس بجھائی جارہی ہے،
کہیں ہمیں ننگ دھڑنگ دکھا کر ہماری “غیرت” کی پیاس بجھائی جارہی ہے اور
کہیں ہم پر گولے برسا کر ہمارے “جہاد” کی پیاس بجھائی جارہی ہے۔

میرے سوہنے پترا یہ جو لوگ کہتے ہیں نہ پاکستان کے پاس اپنے مسئلے سلجھانے کا وقت نہیں اور بات مسلم امّہ کی کرتے ہیں تو یاد رکھ پتر یہ ان کے اندر کا خوف بولتا ہے وہ جانتے ہیں پاکستانیوں کے اندر اسلام کی پیاس ہے، اس کی سر بلندی کی پیاس ہے ، یہ کبھی نہیں بجھنی، اس لئے تو میں پاکستان کو اللہ پاک کا تحفہ کہتا ہوں۔

پتر اپنی پیاس کبھی نہ بجھنے دینا یہ پیاس ہی ہوتی ہے جو مقصد کے حصول کے لئے دیوانہ کردیتی ہے اور اگر کسی مقصد سے دیوانگی ہی نکال دی جاۓ تو مقصد اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اس لئے یہ قومیں جن سے مسلمان نہیں برداشت ہوتے مسلمانوں کی پیاس بجھانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔
کہیں کسی مسلم ملک میں چڑھائی کر کے ہماری پیاس کا پیمانہ چیک کرتے ہیں،
کبھی ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کر کے ہماری پیاس میں آنے والے طوفان کو دیکھتے ہیں۔
پر پتر یہ سب سدا ہی مایوس ہوتے آئے ہیں اور آگے بھی انشاءاللہ مایوس ہی ہوں گے۔ یہ پیسہ پھینک رہے ہیں اپنے پالے ہوے لوگوں پر کہ ہم پر بےحیائی پھیلائیں ہمیں اپنوں سے لڑائیں، پر پتر ہم سب کو مل کر انہیں ناکام کرنا ہے ہر وقت و ہر لمحہ، ہر جگہ و ہر محاذ پر۔۔۔

پترا یہ ہمارے دماغوں سے کھیل کر ہمیں ان لوگوں کے گلے لگانا چاہتے ہیں جو ہمیشہ ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپتے آئے ہیں جن کے بارے میں سوہنے اللہ پاک نے صاف صاف کہا ہے کہ یہ ہمارے دوست کبھی نہیں ہو سکتے پھر یہ کون لوگ ہیں جو ہمارے اللہ پاک کے فرمان سے ہمیں بھٹکا رہے ہیں؟
پر پتر، اللہ پاک سے جنگ کرنے والے پہلے کب کامیاب ہوئے تھے جو اب کامیاب ہوں گے؟

میرے شیر پترا ہماری پیاس ہمارا اللہ، اس کا رسول اور اسکا دین ہے، اپنی یہ پیاس بجھ گئی تو ہم کہیں کہ نہ رہیں گے کیوں کہ یہی ہماری اصل طاقت ہے۔

باوا جی کو شائد اتنا جذباتی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اپنے رونگٹے اور خون کی گرماہٹ میں اس طرح کی ہلچل کبھی محسوس کی۔ پر یقین جانئیے آج ایک نئی پیاس لے کر جارہا ہوں باوا جی سے۔ بہت سچی پیاس اور انشاءاللہ اس پیاس کو واقعی کبھی نہیں بجھنے دوں گا – نہ خود میں نہ ہی اپنی مسلم امّہ میں۔ ۔ ۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – ماخوذ)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.