252

ماہ رمضان ، خود تشخیصی و تبدیلی کا اٹھارواں دن۔ ۔ ۔

اگرچہ آجکل کے دور میں یہ بہت ہم عام بات ہے لیکن ماہ رمضان میں اس امر کی بالکل ضرورت نہیں کہ آپ فوٹو ٹویٹ یا فیس بک پر اپنا حال شائع کر کے دوسروں کو یہ محسوس کروایں کہ کتنا خشوش خصوص محسوس کر رہیں اور کیسے اپنے دل میں اللہ سبحانی وتعالی کی تسبیح و کبریائی کا ذکر ازکار کر رہے ہیں۔ یہ باتیں صرف ہمارئے اور اللہ سبحانی وتعالی کے درمیان ہی رہی چاہیے۔ کوشش کجئیے کہ ہم جتنا زیادہ ہو سکے دور رہیں انٹرنیٹ کے اس مختلف سماجی رابطوں سے اور اس وقت کو اللہ سبحانی و تعالی کے قرب حاصل کرنے میں لگائیں، اور اللہ سبحانی و تعالی کی نظروں میں اپنی حالت/اعمال بہتر بنائیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے خیراتی اعمال کی تشہیر سے بھی سختی کے ساتھ گریز کرنا چاہیے کیونکہ حضرت محمد فرمایا ہے کہ،
“قیامت کے دن جن سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اپنے ( عرش کے ) سایہ میں رکھے گا ان میں سے ایک وہ بھی ہو گا جس نے اللہ کی رضا کے لیےچھپا کر اس انداز سے صدقہ دیا کہ بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلے کہ دائیں ہاتھ سے کیا دیا گیا ہے۔ “(بخاری)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Reinspired: Day Eightteen…

Although it is very common, Ramadan is really not the time to tweet photos or update Facebook/G+ statuses about how much khushoo’ you felt and how the words of Allah are piercing your heart. Let’s keep that between us and Allah. Let’s try that maximum we keep ourselves away from social networking and use that time to bring ourselves closer to Allah and improve our position in the sight of Allah.
We should also avoid publicizing our charitable deeds, because the Prophet Mohammad SWS said that,
“one of the seven groups of people that will be granted shade on the Day of Judgment includes the one who gives in charity and conceals it to such an extent that his left hand does not know what his right hand gives; and a man who remembers Allah when he is alone, and his eyes fill up.” (Bukhari)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.