263

ماہ رمضان ، خود تشخیصی و تبدیلی کا چھبیسواں دن۔ ۔ ۔

کتنے افسوس و دکھ کی بات ہے کہ آج ہم اس ذات سے آخر میں رجوع کرتے ہیں، جو ہمیں ہر چیز عنایت فرماتا ہے اور ہر روز عنایت فرماتا ہے بناء مانگے، اور وہ اجکل ہمارے رجوع کا آخری پڑاو ہوتا ہے۔
سب دروازوں پر دستک دینے کے بعد، ہم اُس دروازئے پر دستک دیتے ہیں جہاں درحقیقت ہمیں ( کہیں بھی اور جگہ/درسے) سب سے پہلے دستک دینی چاہیے تھی۔
آئیے ہم سب اپنا تفصیل و گہرائی سے جائزہ لیں کہ ہم سب اُس کی طرف لوٹنے سے پہلے اپنے آپ کو مزید بہتر بنا لیں اور اس بات کو پوری طرح سمجھ اور مان لیں کہ کوئی اور نہیں صرف ایک وہی اللہ کی ذات ہے جو سب کچھ عطا فرماتی ہے۔
“اور جو کافر ہیں ان کے لئے دنیا کی زندگی خوشنما کر دی گئی ہے اور وہ مومنوں سے تمسخر کرتے ہیں لیکن جو پرہیز گار ہیں وہ قیامت کے دن ان پر غالب ہوں گے اور خدا جس کو چاہتا ہے بےشمار رزق دیتا ہے۔” (القرآن، سورة البقرة – آیت 212)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم (آیت 129، سورتہ توبہ – القرآن)
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

=====================================================================

Ramadan Reinspired: Day Twenty Six…

How sad is it that today He has become our last resort. The one who gives us everything, everyday without us even asking, is the last one we turn to.
After knocking every door, is His door the last door to be knocked when in reality it should have been in the first place before anything else?
Let’s have a deep look inwards and rectify this before we return to Him and know that it is none but Him who gives.
“ Beautified for those who disbelieve is the life of this world, and they ridicule those who believe. But those who fear Allah are above them on the Day of Resurrection. And Allah gives provision to whom He wills without account.” (Qu’ran 2:212)

Do Think About it!

And Let us Know What’s Your Opinion/Reviews?
But Before Answering, All of us have to Look Ourselves into The Mirror.
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
Sufficient for me is Allah ; there is no deity except Him. On Him I have relied, and He is the Lord of the Great Throne. Al Quran – 9:129
O Allah! Give all of us the courage, strength and ability; that we get understand and act upon the Positive lesson in this message with positively open heart & mind. And sincerely follow all our religious, social and moral responsibilities as well. Aamen

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.