145

آئیے میں ایک عام اور واجبی سی عقل والا پاکستانی آپ کا ڈیم بنواتا ہوں۔ ۔ ۔

جیسا کہ آجکل بہت شور ہے چندئے سے ڈیم بنانے کا،
او پنجابی وچ کہندئے نے کہ،
“ویلے دی نماز تے کویلے دیاں ٹکراں ”
یعنی “نماز تو وہ ہوتی ہے جو وقت پر ادا کی جائے بے وقت تو ٹکریں ہی ہوتی ہیں”

تو کہنا یہ کہ قومیں ایسے رہتی ہیں جیسے اپنے دشمن پڑوسی ہندوستانی،
جو کہ اپنے مفاد کے لیے ہمہ وقت چوکس۔
جبکہ جو سست، بے نظریہ تھے ہمارے حاکم ہو گئے۔
ایک کے بعد ایک “تحفہ” ہمارے مقدر میں تھا۔
مرحوم ذولفقارعلی بھٹو پاکستان بھر کی صنعتوں پر قبضہ کر سکتا تھا مگر ڈیم نہ بنوا سکا۔۔۔
مرحوم ضیاء الحق نے مضبوط ترین وزیراعظم کو بھانسی لگا دیا مگر کالا باغ ڈیم پر اس کی بھی ٹانگیں کانپتی رہیں۔۔۔
باقی رہے گئے
بے نظیر ، مشرف اور نواز شریف،
یہ بونے بونے لوگ، کسی بھی ایسے وزن سے محروم تھے جس میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کی تعمیر کرنا ہوتی ہے۔ ان کی زیادہ سے زیادہ ذہنی پہنچ یہ تھیں کہ ارکان اسمبلی کو کیسے خریدنا ہے اور مدت کیسے پوری کرنی ہے۔
نواز شریف کو اگرچہ سڑکیں بنانے کا بہت شوق تھا لیکن اتنا فہم نہیں تھا کہ سڑکوں سے کہیں زیادہ لوگوں کو صحت، تعلیم کی ضرورت ہے اور اسی طرح ڈیم کی بھی۔

ملک کہ دیگر چھوٹے بڑئے، انفرادی و اجتماعی پلیٹ فارم اپنی جگہ پرموجودہ دور میں یہ سو فیصد سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی مہم جوئی تھی جو کالاباغ و دیگر ڈیم اور آبی مسائل اب تحریک کی شکل میں بدلتے جا رہے ہیں
لیکن اس ذکر کو چھوڑ کے ہم آگے چلتے ہیں اپنے اصل موضوع کی جانب۔۔۔

جی ہاں واقعی میں ایک عام اور واجبی سی عقل والا پاکستانی ہوں، آئیے میں آپ کا ڈیم بنواتا ہوں۔

بصد احترام عرض ہے کہ معزز جج صاحب نے فنڈ قائم کیا ہے اور پیسا اکٹھا ہو نہیں رہا جیسا کہ ہونا چاہیئے تھا اور مان لیا کچھ رفتار تیز ہو بھی جائے گی تو آخر کب جا کے اکٹھا ہو گا اور کب جا کے کا شروع ہو گا۔ پتہ چلے کے جس حساب سے رقم جمع کی گی اب جب جمع ہوئی تو خام مال کی رقم دوگنا ہو چکی ہے۔ تو کیا پھر سے چندہ شروع ہو جائے گا؟
قابل احترام جج صاحب، آپ عمر و تجربہ دونوں میں ہم عوام سے بڑے ہیں لیکن کبھی کبھی عقل کی بات چھوٹوں یا واجبی عقل، یا چلیں ہم جیسے بیوقوفوں یا کھوٹے سکوں سے بھی مل جاتی ہے۔

قابل احترام جج صاحب، یوں چندوں سے مسجدیں بنتی ہیں یا ڈسپنسریاں یا سکول کالج، لیکن ڈیم نہیں بنتے۔ ڈیم حکومتی وسائل سے بنتے ہیں کیونکہ ان اربوں کھربوں کے اخرجات ہوتے ہیں اب تک کی اطلاع کے مطابق تقریباً ڈھائی کھرب روپے درکار ہیں۔ چلیں آئیں ایک عام پاکستانی آپ کو کچھ ارب اکٹھے کر کے دیتا ہے یعنی معلومات کی شکل میں، عمل کرنا یعنی وہاں سے نکلوانا اور جمع کرنا آپ کا کام –

ویسے تو جس گورنر ہاوس میں صرف ایک دن کے دودھ کا بل اٹھائیس ہزار بنتا ہے اس سے جان چھڑانی ہی اچھی ہے لیکن گورنر کے عہدے کو ختم کرنے کے لیے لمبی چوڑی آئینی ترامیم کی ضرورت ہے جبکہ یہ ایک آسان سا اور انتظامی فیصلہ ہو گا کہ گورنر صاحب کو ڈیفنس یا کسی اور پوش علاقے میں ایک دو ایکڑ کی کوٹھی میں منتقل کر دیا جائے اور گورنر ہاؤس کو بیچ دیا جاۓ
کیونکہ
لاہور کا گورنر ہاوس اکہتر ایکڑ رقبے پر واقعہ ہے۔ شاید کہا جا سکتا ہے کہ یہ لاہور کی قیمتی ترین جگہ ہے۔ اکہتر ایکڑ میں گیارہ ہزار تین سو ساٹھ مرلے ہوتے ہیں تو اگر ایک مرلے کی قیمت صرف بیس لاکھ روپے شمار کی جائے جو وہاں کی ممکنہ قیمت کا نصف بھی نہ ہو شاید تو بھی یہ قیمت بائیس ارب روپے بنتی ہے۔

اسی طرح کراچی کا گورنر ہاوس ہے جس کی قیمت لاہور کے گورنر ہاؤس سے کم نہ ہو گی۔

اس کے بعد پشاور کا گورنر ہاؤس بھی اربوں روپے کی زمین پر موجود ہے۔

سو ان تین گورنر ہاوسز کو بیچ کے ہی ڈیمز کی اچھی خاصی قیمت وصول کی جا سکتی ہے۔

خیر اس کے بعد ہر ضلع کے ڈی سی ہاوسز ہیں جن کے رقبے آپ کی سوچ سے بھی زیادہ ہیں۔ ایک بار اس حوالے سے بھی مضمون پڑھا تھا، اگر ملتا تو ابھی نقل کرتا، آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتیں۔ بہر کیف کوشش کروں گا کہ وہ مضمون بھی تلاش کر کے کمنٹ بکس میں ڈال دوں۔ خیر تو یہ گھر بھی بعض جگہوں پر بیسیوں ایکڑ پر مشتمل ہیں جبکہ ایک ڈی سی نامی افسر عموما چھے فٹ سے لمبا نہیں ہوتا، اس کا وزن بھی سو کلو کے لگ بھگ ہوتا ہے، سو اس شہر کی کسی بھی پوش آبادی میں اس کو ایک یا دو کنال کے گھر میں “بند” کیا جا سکتا ہے کہ، “لیجئے مابدولت صاحب، قوم کی خدمت کیجئے۔”

پانامہ کیس میں جتنے بھی لوگوں کا نام آیا ہے سب سے ریکوری کی جاۓ۔

ریلوے کی ہزاروں ایکڑ اراضی پر قبضہ مافیا کا راج ہے وہ اراضی واگزار کرانے کے بعد بیچ دی جاۓ۔

ایک سب سے اہم بات کہ جب کوئی شخص کسی حکومتی عہدہ پر فائز ہوتا ہے تو اس کو ملنے والے تحائف پر سرکار کا حق ہوتا ہے نہ کہ اس شخص کا تو پوچھا جائے کہ پانچ ارب روپے کی ملکیت والا بحریہ ٹاؤن میں محل کس مقصد کے لیے بطور تحفہ سابقہ صدر نے قبول کیا تھا؟ اگر جواب تسلی بخش نہ ملے تو اسے بحق سرکار ضبط کیا جائے اور بیچ دیا جائے۔

اور چلتے چلتے بتاتا چلوں کہ ہمارا وزیراعظم ہاؤس تو قائد اعظم یونورسٹی سے کچھ زیادہ ہی رقبے میں واقع ہے۔ اس کا بھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔

اور ہاں یاد آیا کہ پچھلے دنوں موبائل فون پر ٹیکس کٹوتی ختم کی گئی تھی کہ جو ایک سو کے کارڈ پر بچیس روپے کے قریب تھی۔ اگر بائیس کروڑ کی آبادی میں صرف دو کروڑ افراد موبائل استعمال کرنے والے تصور کیے جائیں اور ہفتے کا ایک کارڈ تو جناب یہی پچاس کروڑ روپے بنتا ہے جواب حکومت کی بجائے کمپنیوں کی جیب میں جا رہا ہے اور بیچاری عوام کو کوئی خاص رلیف نہیں ملا۔ آپ اسے واپس بحال کر کے بھلے ڈیم کے لیے مختص کر لیں۔

اگر گزری حماقتوں کا ذکر کریں گے تو رونے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو گا جیسا کہ اورنج ٹرین ہے جس پر دو سو ارب روپے سے زیادہ لگ رہے ہیں جو ایک شہر کی صرف ایک سڑک ہے۔ ویسے آپ نے نیرو کا نام تو سنا ہو گا ؟
جی ہاں!
ہمارے یہ حکمران نیرو ہی ہیں کہ روم جل رہا تھا اور یہ بانسری بجا رہے تھے۔
جی ہاں!
یقین جانیئے آنے والی نسلیں ہم کو گالیاں دیں گی کہ تمام کا تمام پانی پی گئے اور ہمارے لیے کچھ نہ چھوڑا تو اس موئی اورنج ٹرین کی جگہ اس پیسے کو ڈیم بنانے میں بھی لگایا جا سکتا تھا۔
یہ تو صرف ایک حماقت ہے ، ورنہ اگر میگا سکینڈلز کو گننا شروع کریں گے تو درجنوں کالا باغ اور بھاشا ڈیم آپ کی جیب میں آ جائیں گے۔

سوال یہ بھی ہے کہ یہ ہمارے لیڈر، افسر اور رہنما کیسے ان تنگ گھروں میں رہ سکیں گے تو بتاتا چلوں کہ،
بل گیٹس دنیا کا امیر ترین شخص ہے، دنیا میں صرف 18 ممالک ایسے ہیں جو دولت میں بل گیٹس سے امیر ہیں، باقی 192 ممالک اس سے کہیں غریب ہیں، لیکن یہ شخص اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا ہے، وہ اپنے برتن خود دھوتا ہے، وہ سال میں ایک دو مرتبہ ٹائی لگاتا ہے اور اسکا دفتر مائیکروسافٹ کے کلرکوں سے بڑا نہیں۔

وارن بفٹ دنیا کا دوسرا امیر ترین شخص ہے۔ اسکے پاس 50 برس پرانا اورچھوٹا گھر ہے، اسکے پاس 1980ء کی گاڑی ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس دو بیڈروم کا گھر ہے۔

جرمنی کے چانسلر کا ایک بیڈ روم اور ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم سرکاری طور پر ملا ہے۔

اسرائیل کا وزیراعظم دنیا کے سب سے چھوٹے گھر میں رہ رہا ہے۔

اگر مندرجہ بال سبھی شخصیات اس طرح رہ سکتی ہیں اور دنیا پر جکومت بھی کر سکتی ہیں تو ہمارے یہ لاڈلے چھوٹے گھروں میں کیوں نہیں رہ سکتے جو کسی کام کے بھی نہیں ہیں۔
سو برائے کرم بیچئے ان کے یہ تمام محلات اور اس پیسے سے ڈیم بنائیے، کوئی آپ کو نہیں کھا جائے گا۔

آخر میں اتنی گزارش ہے کہ،
قابل صد احترام و محترم جج صاحب!
ڈیم کا چندہ بھی وہ عوام دے جس کے خون کے قطروں پر بھی ٹیکس لگتا ہے،
تنخواہوں سے بھی کٹوتی کی جاۓ گی؟
مگر کب تک؟
اس ملک کے گلے سے کرپشن مافیا آخری قطرہ نچوڑ چکا ہے مگر اب باری ان کی ہے اور انشاءاللہ کالاباغ و دیگر ڈیم ضرور بنے گیں مگر چندئے سے نہیں بلکہ اس ملکی دولت سے جو اندرون بیرون ملک چھپائی گئی ہے۔

قدم بڑھایں حقیقی کاروائی کی جانب، خاطر جمع رکھیں ساری عوام آپ کو اپنے شانہ بشانہ کھڑی ملے گی انشاءاللہ۔۔۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – ، القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

( ماخوذ و ترمیم شدہ تحریر )

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آئیے میں ایک عام اور واجبی سی عقل والا پاکستانی آپ کا ڈیم بنواتا ہوں۔ ۔ ۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.