536

اللہ سبحانی و تعالی اپنا خاص رحم و کرم فرمائے پر یہ معاملہ مال روڈ ڈیم پر ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ ۔ ۔

لاہور مال روڈ پر پڑنے والے گڑھے میں ایک مکمل کہانی پوشیدہ ہے اس نااہل حکومت اور اسکے ساتھ وابستہ اہلکاروں کی ناقابل برداشت ناقص پلاننگ کی جو پچھلے کئی سالوں سے بلکہ تین دہائیوں پر محیط ہے۔ میٹرو اور اورینج ٹرین کے لئے کی گئی کھدائی کے نتیجے میں ایک ایسا ویکیوم بنا ہے جس نے زیر زمین پانی اور مٹی کو ایک بہت لمبے چوڑے علاقے تک کھوکھلا کر دیا ہے اور زیر زمین مٹی سرکنے لگی ہے یوں اب مال روڈ کے ساتھ ساتھ کے تمام علاقے اور عمارتیں مکمل کیچڑ میں کھڑی ہیں اور مزید بارشوں کی صورت میں یہ کیچڑ مزید پتلا ہوگا اور عمارتوں کی بنیادوں پر اثر انداز ہوگا۔ خطرہ یہ ہے کہ یہ عمارتیں زمیں بوس ہو جائیں گی۔

ایک انجینئر سے بات چیت کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ جہاں جہاں بھی میٹرو اور اورینج ٹرین کے ستون بنے ہیں ان سب علاقوں میں اسی قسم کی صورت حال پیش آ سکتی ہے۔ ان صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر زمین کی سنکنگ اسی سپیڈ سے جاری رہی تو اس مون سون کے آخر تک لاہور کی متعدد سڑکیں اور عمارتیں منہدم ہو جائیں گی اور یہ زیر زمین سلش یا کیچڑ کئی سال تک نہیں سوکھے گا۔

اگر فوری طور پر اور ہنگامی بنیادوں پر سوائل (soil) سٹڈی نہ کی گئی اور مٹی کے سرکنے کی سمت میں بیرئر نہ لگائے گئے تو لاہور ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ یہ بیریئر کنکریٹ کی دیواروں یا موٹی موٹی پری فیبریکیٹڈ سلیبوں کی شکل میں ہو سکتے ہیں۔ مٹی کے سرکنے کی سپیڈ اور بہہ جانے والی مٹی کا حساب لگا کر ان کی تعداد، گہرائی اور فاصلے کے علاوہ ان کی موٹائی کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔

یہ کام بغیر کسی دیر کئے فوری طور پر شروع کیا جانا چاہئے قبل اس کے کہ کوئی بڑا سانحہ پیش آ جائے۔

لاہور والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے لوگوں کو فوری طور پر گرفت میں لیا جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ یہ وقت احتساب کا ہے۔ مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان کی اموات کو قتل کے زمرے میں دیکھا جائے اور مجرموں کو فوری طور پر سزائیں دی جائیں۔

(تحریر محترم تاثیر اکرام رانا)

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – ، القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.