220

پاکستان سے لٹا ہوا مال اور عوام کے ٹیکس کی بجائے چندہ کیوں ؟

چندہ عوام دے،
عوامی چندئے سے ڈیم بنے،
پھر یہی عوام اس ڈیم سے پیدا شدہ بجلی کے لمبے لمبے بل بشمول اضافی ٹی وی فیس، پٹرول، ڈیزل ٹیکس کے ساتھ بھرئے؟
نام نہاد حکمرانوں، عوامی نمائیدوں، بیوروکریٹس،ججز، فوجی جنرلز ان سب نے جو ملکر پاکستان کا مال لوٹا، ان سب کو سب کچھ معاف؟
بلکل نہیں، بلکہ ان سب کو جہاں جہاں بھی یہ موجود ہیں، ان کی گردنوں پر پاوں رکھ کرگھیسٹتے ہوئے واپس لا کر ان کی آنتوں تک سے پاکستان کی لٹی دولت کیوں نہیں نکالتے؟
کالاباغ ڈیم کا کوئی نام نہیں لے رہا ؟
آخر کس بات کا ڈر ہے ؟
وہ بھارت سے چندہ لے کر بنائیں گے؟
ہو کیا رہا ہے ؟
چاہتے کیا ہیں ؟
عوام نے سوتے رہنا یا بھولے بنے رہنا ؟

http://www.supremecourt.gov.pk/web/page.asp?id=2757

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان )

مندرجہ بالا تمثیل/تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ اپنے قیمتی تجزیے و تبصرئے کے ساتھ ساتھ اپنی قیمتی آراء و تجاویز سے بھی ہم سب کو رہنمائی و آگاہی فراہم کریں۔

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.