73

کس بات کا چندہ؟

“إنما الأعمال بالنیات”
“اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔”

اور بے شک!
نیتوں کا حال اللہ سبحان وتعالی بہتر جانتا ہے۔

یہاں بصد احترام اپنی بھولی اور یاداشت کی کمزور عوام کے ساتھ ساتھ قابل احترام عدلیہ کی بھی ایک بلکل سادہ اورسامنے کے پہلو کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہوں گا۔
کس بات کا چندہ؟
پاکستان کی جذباتی عوام نے کب تک خود کو لٹوانا ہے اور چند لوگوں نے کب تک عوام کو لوٹنا ہے؟
ہر بار عوام کو خون ہی چوسنا ہے؟
کیا پہلے سے مہنگائی و دیگر مسائل سے جو خون روزانہ کی بنیادوں پرچوسا جا رہا وہ کافی نہیں؟
ل
مبی بات یا بحث نہیں،
ارض پاک کے لٹیروں کی نہ سوئس بنک اکاوئنٹس نہ دوسرے بیرون ملک اکاوئنٹ یا جائیدادیں،
سب کو فی الحال چھوڑیں – صرف اور صرف
جو مال و اسباب انھوں نے اسی پاکستان میں جمع کر رکھا اسی کو چھین کر چاہے
کالاباغ یا دوسرئے ڈیم، یا کوئی بھی پاکستان کی بہتری کے منصوبوں و اقدامات کا فی الفور آغاز کیا جائے۔

یقین جانیئے اتنی محنت بھی نہیں کرنی پڑنی ان لٹیروں کے مال کو تلاش کرنے کی
کیونکہ
نیب اور دیگر اداروں کے پاس ان کی لمبی چوڑی فہرست موجود ہیں بس ان اداروں کے ہاتھ بندھے یا کٹے ہوئے ہیں، غلط حکم سے یا رشوت سے۔

عدلیہ عوام کے ساتھ آگے بڑھے، ایک فیصلہ سنائیں اور اس تمام مال سے ملک اور عوام دونوں کو ریلیف دیں۔

سوچیئے گا ضرور۔۔۔
اور آگاہ ضرور کیجیئے گا کہ کیا رائے ہے آپ سب کی؟
پر جواب دینے سے پہلے ہم سب خود کو آئینہ میں ضرور دیکھنا ہو گا۔
حسبی اللہ لا الہ الا ھو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم – ، القرآن سورتہ توبہ، آیت 129
اللہ سبحان وتعالی ہم سب کو مندرجہ بالا باتیں کھلے دل و دماغ کے ساتھ مثبت انداز میں سمجھنے، اس سے حاصل ہونے والے مثبت سبق پر صدق دل سے عمل کرنے کی اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں ہماری تمام دینی، سماجی و اخلاقی ذمہ داریاں بطریق احسن پوری کرنے کی ھمت، طاقت و توفیق عطا فرما ئے۔ آمین!

(تحریر – محترم محمد شیراز جاوید اعوان)

مندرجہ بالا تحریر سے آپ سب کس حد تک متفق ہیں یا ان میں کوئی کم بیشی باقی ہے تو اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کر کے میری اور سب کی رہنمائی کا ذریعہ بنئیے گا۔ کیونکہ ہر شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر کا اپنا اپنا سوچ اور دیکھنے کا انداز ہوتا ہے اور اس لیے ہمیں اس سب کی سوچ و نظریہ کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس کی کسی بات/نکتہ کو قابل اصلاح پائیں تواُس شخص/فرد/گروہ/مکتبہ فکر یا ادارئے کی نشاندہی اور تصیح و تشریح کی طرف اُن کی توجہ اُس جانب ضرور مبذول کروائیں۔

نوٹ: لکھ دو کا اپنے تمام لکھنے والوں کے خیالات سے متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی لکھ دو کے پلیٹ فارم پر لکھنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام بذریعہ تصویری، صوتی و بصری یا تحریری شکل میں بمعہ اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، لنکڈان، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ admin@likhdoo.com پر ارسال کردیجیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.